اسلام میں ہجری (اسلامی) کیلنڈر کی اہمیت
اشاعت: · Read in English
مسلمان قمری ہجری کیلنڈر سے جانتے ہیں کہ رمضان کب شروع ہوگا، عید کب ہے، حج کب ادا ہوگا اور کئی دوسرے فرائض کب لازم ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد خود قرآنِ مجید میں ہے۔
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ
بارہ مہینے، اللہ کے مقرر کردہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (مفہوم): ”اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن سے اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔“ (سورۃ التوبہ 9:36)
نئے چاند وقت کی علامت ہیں
”لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات کی علامتیں ہیں۔“ (البقرہ 2:189)۔ اور: ”وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو۔“ (یونس 10:5)
عبادات اسی سے وابستہ ہیں
رمضان کے روزے (البقرہ 2:185)، حج کے مہینے (البقرہ 2:197)، حرمت والے مہینے (التوبہ 9:36) اور نبی کریم ﷺ کا فرمان: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو“ (صحیح بخاری 1909، صحیح مسلم 1081) — یہ سب عبادات کو قمری مہینوں سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے آج کی ہجری تاریخ جاننا مسلمان کی عملی زندگی کا حصہ ہے۔
قمری سال موسموں میں کیوں گھومتا ہے
قمری مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے، اس لیے ہجری سال تقریباً 354 یا 355 دن کا ہوتا ہے، یعنی شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا۔ اسی لیے رمضان اور عید ہر سال عیسوی کیلنڈر میں پہلے آ جاتے ہیں۔
آج کی ہجری تاریخ دیکھیں: پاکستان میں آج کی اسلامی تاریخ · کل کی اسلامی تاریخ · ہجری کیلنڈر
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اسلامی کیلنڈر میں کتنے مہینے ہیں؟
بارہ مہینے، جیسا کہ سورۃ التوبہ 9:36 میں ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔
ہجری کیلنڈر قمری کیوں ہے؟
قرآن نئے چاندوں کو لوگوں اور حج کے لیے وقت کی علامت قرار دیتا ہے (2:189)، اور ہر مہینہ نئے چاند سے شروع ہوتا ہے۔
رمضان ہر سال پہلے کیوں آتا ہے؟
ہجری سال عیسوی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہے، اس لیے اسلامی تاریخیں ہر سال پہلے آ جاتی ہیں۔
حوالہ جات
- سورۃ التوبہ 9:36
- سورۃ البقرہ 2:189
- سورۃ یونس 10:5
- سورۃ البقرہ 2:185، 2:197
- صحیح بخاری 1909؛ صحیح مسلم 1081